بھٹکل:22؍اگست (ایس اؤ نیوز) اترکنڑا ضلع پنچایت کی صدر جئے شری موگیر کی کاسٹ سرٹیفکٹ کو بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر ساجد ملا نے رد کرتےہوئے بھٹکل تحصیلدار کوحکم دیا ہے کہ اُن کی سرٹی فیکٹ کو جعلی قرار دیا جائے۔ خیال رہے کہ پسماندہ ذات کے ریزرویشن کے تحت اُترکنڑا ضلع پنچایت صدر کا عہدہ پانے والی جئے شری موگیرپچھلے تین برسوں سے عہدے پر فائز ہیں۔
بھٹکل کے نارائن شیرور نامی شخص نے دو برس پہلے اسسٹنٹ کمشنر کی عدالت میں جئے شری موگیر کے خلاف کیس درج کیا تھا کہ جئے شری موگیر نے اپنی ذات کی جو سرٹیفکٹ دی ہے وہ جعلی ہے۔ ان دوبرسوں سے سنوائی ہوتی رہی ، آج بھری عدالت میں اسسٹنٹ کمشنر نے اُن کی ذات کی سرٹی فیکٹ کو جعلی مانا اور بھٹکل تحصیلدار کو حکم دیا کہ وہ جئے شری موگیر کی ذات کی سرٹی فیکٹ کو جعلی قرار دے۔
واضح رہے کہ گذشتہ دو برسوں سے یہ معاملہ بھٹکل تحصیلدار، بھٹکل اے سی، اُترکنڑا ڈی سی تک پہنچنے کے بعد بھی رد ہونے کے بعد نارائن شیرورکر نے معاملے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جہاں سنوائی باقی ہے۔ اس درمیان بھٹکل کے اسسٹنٹ کمشنر اور تحصیلدار بھی تبدیل ہوتے رہے، جس کو دیکھتے ہوئے نارائن شیرور کر نے پھر ایک بار اسسٹنٹ کمشنر کا دروازہ کھٹکٹایا تھا اور اس بار اسسٹنٹ کمشنر نے ان کی سرٹی فیکٹ کو جعلی قرار دے دیا۔
واضح رہے کہ جئے شری موگیر کی پسماندہ ذات ہونے کی سرٹی فیکٹ اگر جعلی ہونا ثابت ہوتی ہے تو پھر بھٹکل کی جئے شری موگیر نہ صرف اپنا عہدہ کھو سکتی ہیں بلکہ ان کی ضلع پنچایت کی رکنیت بھی رد ہونے کا خطرہ ہے۔
اس تعلق سے جئے شری موگیر سے رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ معاملہ ہائی کورٹ میں زیر بحث ہے، اور اسی سال ستمبر میں سنوائی ہونے کے امکانات ہیں، جئے شری موگیر نے اس بات پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ عدالت کا فیصلہ آنے سے پہلے اسسٹنٹ کمشنر کی طرف سے حکم صادر کرنا غیر قانونی ہے، انہوں نے بتایا کہ ہمیں قانون پر پورا بھروسہ ہے اور ہماری جیت یقینی ہے۔